پاکستانی نظام اور ادارے "
مہاراجہ اپڈیٹس پاکستان
قاٸد اعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت کی بدولت ہم نے ہم نے ایک اسلامی ریاست بناٸی جس کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا گیا اس کے بعد اسلام کے نام پر بہت سی سیاسی پارٹی بن کے مذہب کے نام پر سیاست شروع کردی لیکن افسوس اس بات کا ھے کہ ہم نے ایک اسلامی ریاست ہونے کے باوجود ایک مغربی ریاست کے طرز طریقہ اپنانے لگے ھیں جس مغرب سے ہمیں آزادی ملی ہم پھر سے اس جنگل کی طرف لوٹ رہے ھیں کیونکہ ہمارے سیاسی رہنما خود مغرب کے نقش قدم پر چل رہے ھیں زنا جو اسلام مذہب میں اسے حرام کیا ھے لیکن ان لوگوں نے زنا کو عام کیا ھے کہاں گٸے وہ مذہبی پارٹیاں جو اسلام کے نام عوام سے ووٹ مانگتے پھر رھے تھے کیوں اس کے ترجمانوں کو چپ لگی ھے کوٸی مزمتی بیان تو ابھی تک دیا نہیں اور الٹا زانی کو تپکی دیتے ھیں کہ آپ ترجمان ہو اور رہوگے کیا قاٸد نے ایسا پاکستان چاہا تھا۔جہاں اسلام کی بجائے زنا کو فروغ ملے۔ہر گز نہیں بلکہ جب قائد اعظم سے آئین پاکستان کا پوچھا گیاتو انہوں نے فرمایا۔
"لوگ مجھ سے پاکستان کے قانون کی بات کرتے ہیں میں کون ہوتا ہوں قانون بنانے والا جببکہ آج سے چودہ سو برس پہلے اللہ پاک نے قرآن مجید کی صورت میں ہمیں قانون دے دیا۔اور یہ اسی شریعت کے مطابق ہوگا۔"
یہ ریاستی قوانین کب عمل میں لائے جائیں گے جب یہاں یورپ جیسی فحاشی سربازار ہوگی عدالتی نظام کہاں ہے سو موٹو کیوں نہ ہوا۔ایک سابقہ گورنر سندھ اور ترجمان ن لیگ زبیر سرعام زنا کا مرتکب ہوتا ہے
ہفتے تک ویڈیوز ہر جگہ پہنچتی ہے فرانزک رپورٹ میں تصدیق ہوتی ہے مگر تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ترجمانوں کو چپ لگی ہے۔کسی نے کیس تو دور کی بات ابھی تک ایسے شخص پہ لعنت تک نہیں بھیجی ۔بجائے اسے سزا و جزاء کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے ایک نامور لبرل صحافی نے اسکا انٹرویو کر ڈالا۔
ایک محترمہ صحافی اس کے دفاع میں بولیں کہتی ہیں کہ اگر یہ کام رضا مندی سے ہوا تو انکا زاتی فعل ہے ۔
ایک اور سینئر صحافی معاشرے کو (کونسینٹ) کی ترغیب دے رہی ہیں۔اسلام اور پاکستان کے قانون میں اس لفظ (کونسینٹ) کی کوئی اجازت نہیں۔
آئین پاکستان اور شریعت اسے گناہ کا مرتکب قرار دیتی ہیں۔ان پہ فوجداری کے مقدمات لاگو ہوتے ہیں اور کم از کم دس سال سزا ہے۔
جبکہ شریعت میں ہے کہ۔"اگر شادی شدہ مرد و عورت زنا کے مرتکب ہوں تو انہیں سنگسار کیا جائے"
حالات یہ ہیں کہ ایک دینی مدرسے کا مولوی اور ایک وزیر دو گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں وزیر تو سرعام میڈیا کی زینت ہے
جبکہ دوسری جانب ایک مدرسے کے مولوی کو چند گھنٹوں میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر مذہبی کارڈ کھیلا گیا۔
اسلام کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے۔مذہب کےنام پہ ووٹ لینے والے آج خاموش ہیں دھرتی کیوں نہیں کانپ رہی۔
حقیقت تو یہ ہے جیسی عوام ویسے حکمران۔
کیوں مذہب اسلام کا مذاق بنایا رہا ہے ؟آخر کیوں لبرلز قادیانی ہمارے اوپر مسلط ہو رہے ہیں۔آستین کے سانپ کب روندے جائیں گے۔کیوں مذہبی انتہا پسندی جاری ہے۔کون حساب دے گا کون مسیحا ہو گا۔کیا ہم احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔
دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ہماری اقدار اتنی پست ہو چکی ہیں کہ ایک شخص سرعام زنا کر رہا ہے عوام اور میڈیا اسے سیاسی رنگ دے رہی ہیں۔کارکنان سپورٹ کر رہے ہیں۔
ہماری اسلامی نظریاتی کونسل کو چپ لگی ہے۔۔
انسانی حقوق کی تنظیم سو رہی ہے۔
غرباء کے لیے الگ قانون ہے امیر کے لیے الگ ہے ۔
ہمیں مل کر اس نظام سے لڑنا ہو گا۔تاکہ ریاست مدینہ کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ہمیں آواز اٹھانا ہوگی۔
یا اللہ رحم فرما ہمیں اس نظام سے لڑنے کی طاقت دے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
تصویر کا مقصد صرف تھریڈ کی طرف توجہ مبزول کروانا تھا
https://maharajaupdatespakistan.blogspot.com/2022/05/blog-post_18.html?m=1

Comments
Post a Comment